اکرم ناصر ۔۔۔ زین گھوڑوں پہ ہے اور زرہیں اتاری نہیں ہیں

زین گھوڑوں پہ ہے اور زرہیں اتاری نہیں ہیں
ہاتھ تلوار پہ ہیں ہمتیں ہاری نہیں ہیں

ہم کہ حالات کے چکر میں ہیں آئے ہوئے لوگ
پیشہ ور مانگنے والے تو بھکاری نہیں ہیں

ہم پہ یوں مرضی مسلط نہیں کی جا سکتی
ہم ترے کھیت مزارع نہیں، ہاری نہیں ہیں

آگے جنگل ہے جہاں شیر ہیں چیتے ہیں میاں
لوٹ جائیں وہ یہیں سے جو شکاری نہیں ہیں

حکم ربی ہے تو کر دیتے ہیں رخصت ورنہ
کون سی بیٹیاں کس باپ کو پیاری نہیں ہیں

تیری ہر بات پہ لبیک کہیں اور ہر حکم
ہم بجا لائیں رعایا تو تمہاری نہیں ہیں

نفع نقصان کی تفریق سے ہم واقف ہیں
خود سے بیگانہ نہیں عقل سے عاری نہیں ہیں

Related posts

Leave a Comment